مردم شماری میں کراچی اورسندھ کے شہری علاقوں کی آبادی کم کرنے ، ماورائے عدالت قتل ، جبری گمشدگیوں اورریاستی مظالم کے خلاف لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے سامنے ایم کیوایم کا احتجاجی مظاہرہ

حالیہ مردم شماری میں کراچی اورسندھ کے شہری علاقوں کی آبادی کم کرنے ،ایم کیوایم کے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل ، گرفتاریوں، جبری گمشد گیوں اور ریاستی مظالم کے خلاف ایم کیوایم یوکے کے زیراہتمام آج اتوار لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں خراب موسم کے باوجود بڑی تعدادمیں ایم کیوایم کے کارکنوں ، بزرگوں ، خواتین اوربچوں نے شرکت کی ۔احتجاجی مظاہرے میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان اورایم کیوایم یوکے کی سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کے ار کان اور دیگر ذمہ داران بھی شریک تھے ۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ایم کیوایم کے پرچم اور بانی و قائد جناب الطاف حسین کے پورٹریٹ کے ساتھ ساتھ ساتھ مختلف پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر مردم شماری میں کراچی اورشہری علاقوں کی آبادی کم کرنے،مہاجروں کی نسل کشی، ماورائے عدالت قتل ،گرفتاریوں، جبری گمشدگی،انسانی حقوق کی خلاف ورزی ،ریاستی مظالم بند کرانے اورلاپتہ افراد کی بازیابی کے مطالبات تحریر تھے ۔ مظاہرین نے ایم کیوایم کے کئی لاپتہ کارکنوں کی تصاویر بھی اٹھائی ہوئی تھیں ۔ مظاہرین کافی دیرتک ” We rejects Census ” We want justice ” ” Stop killing Mohajirs” کے نعر ے لگاتے رہے ۔اس کے ساتھ ساتھ مظاہرین کافی دیر تک زور دار نعرے لگا کرریاستی مظالم بند کرانے ، مہاجروں کوحقوق دینے کا مطالبہ کرتے رہے اور قائد تحریک جناب الطاف حسین سے اپنی وابستگی اورمحبت کے جذبات کا اظہارکرتے رہے ۔ سیاحوں نے بھی مظاہرے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا اور کارکنوں سے مظاہرے کے مقاصد کے بارے میں آگاہی حاصل کی ۔ ایم کیوایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین نے ٹیلیفون پر مظاہرین سے خطاب کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہم مردم شماری کومکمل طورپرمسترد کرتے ہیں،
انہوں نے مہاجروں کی نسل کشی بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان اوریوکے یونٹ کے ذمہ داران نے وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے نام ایک پٹیشن بھی ہائی کمیشن حکام کے حوالے کی ۔پٹیشن میں کہا گیا تھاکہ قیام پاکستان کے بعد سے ہونے والی ہرمردم شماری میں کراچی اوردیگر مہاجر اکثریتی شہروں کی آبادی سازش کے تحت 50فیصد کم کرکے آدھی کردی گئی اور2017ء کی مردم شماری میں بھی کراچی کی تین کروڑ آبادی کو ایک کروڑ49لاکھ دکھایا گیا ہے ۔ایسا ہی سندھ کے دیگرشہری علاقوں کی آبادی کے ساتھ بھی کیا گیا ہے۔ پٹیشن میں مطالبہ کیا گیا کہ حالیہ مردم شماری کے نتائج منسوخ کئے جائیں اور اقوام متحدہ کے مردم شماری کمیشن کی نگرانی میں مردم شماری کرائی جائے۔ پٹیشن میں قائد تحریک الطاف حسین کوعسکری اداروں اور بعض مخالفین کی جانب سے دی جانے والی قتل کی کھلی دھمکیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی اوران کانوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔