پاکستان میں فوج، پیرا ملٹری فورسز اور پولیس کے ہاتھوں 25 ہزار سے زائد مہاجروں کوقتل کیا جا چکا ہے – الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان ) کے بانی و قائد جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں فوج، پیراملٹری فورسز اورپولیس کے ہاتھوں اب تک 25 ہزار سے زائد مہاجروں کوقتل کیا جا چکا ہے،اقوام متحدہ کو مہاجروں کے ماورائے عدالت قتل کا نوٹس لیکر مہاجروں کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں دائر کرنا چاہیے ۔ اسٹیبلشمنٹ کو بلوچوں،پختونوں اورمہاجروں کو ان کے جائز حقوق دینے ہوں گے اوران سے ڈائیلاگ کرنا ہوں گے ۔ فوج کو ایم کیوایم سے بات کرنی ہوگی ، بات چیت کے ذریعہ مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا ۔ ا نہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف کشمیری عوام کو ہے ، کشمیری عوام کی اکثریت جوفیصلہ کرے گی ہمیں اسے قبول کرنا چاہیے ۔ یہ کشمیری عوام کا حق ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں، بھارت کے ساتھ رہنا چاہیں یا اپنا آزاد ملک بنائیں ۔ ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیرکی شب ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن سے وڈیو لنک کے ذریعہ براہ راست خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں نے نہ ماضی میں بکنا گوارا کیا اور نہ آئندہ اصولوں پر سودے بازی کروں گا، جب تک اللہ تعالیٰ کی تائید اور عوام کی حمایت میرے ساتھ  ہے میں آخری سانس تک مہاجروں اوردیگرمظلوموں کے حقوق کے حصول اورظلم ونا انصافی سے آزادی کی جدوجہد کرتا رہوں گا، اس جدوجہد کی پاداش میں اسٹیبلشمنٹ اگر مجھے ملک دشمن کہتی ہے تو کہتی رہے ۔بد قسمتی سے پنجابی اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ بلوچوں، پختونوں، سچے قوم پرست سندھیوں، مہاجروں ، قبائلیوں اورسرائیکی عوام کو غدارقراردیا ہے۔ پنجابی اسٹیبلشمنٹ نے حقوق کے حصول اور ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے پرباچہ خان، سائیں جی ایم سید، نواب اکبر بگٹی ، عطاء اللہ مینگل اور نواب خیربخش مری کو غدار قراردیا اورآج وہ الطاف حسین کوغدارقراردے رہی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ فوج اور دیگر ادارے غریبوں کے خلاف تو حرکت میں آتے ہیں لیکن وہ قومی دولت لوٹنے والے بڑے بڑے جاگیردار اور وڈیروں سے ہاتھ ملاتے ہیں۔ جاگیرداروں، وڈیروں ، سرمایہ داروں ، سرداروں اورخوانین اپنی قومیت کے غریب ہاریوں ، کسانوں اورمحنت کشوں کو اپنا غلام بنایا اور اپنے اپنے علاقوں میں نجی جیلیں قائم کیں لیکن آج تک فوج نے جاگیرداروں اوروڈیروں کی نجی جیلوں اوران کے غیرانسانی مظالم کے خاتمے کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ بلوچستان میں اپنے حقوق کے لئے آوازاٹھانے والے بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں جبکہ فاٹا کے قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف کارروائی کے نام پر آبادیوں پر بمباری کی جارہی ہے اور بے گناہ قبائلی عوام کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے بلوچوں، پختونوں اورقبائلی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم پر افسوس کیا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے 1948ء سے لے کرہرمحاذ پر قبائیلوں کو آگے رکھ کرانہیں قربانی کا بکرابنایا اور آج انہی قبائلیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ 1964 ء سے لیکرآج 2017ء تک تقریباً پاکستان میں فوج، پیراملٹری فورسز اورپولیس کے ہاتھوں 25 ہزار سے زائد مہاجروں کا قتل عام کیا گیا اورآج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ میں اپنی بھابھی کی رضامندی سے اپنے بڑے بھائی ناصر حسین اوربھتیجے عارف حسین کا ماورائے عدالت قتل تو معاف کرسکتا ہوں لیکن 25 ہزارسے زائد مہاجرشہداء کا لہو ان کے لواحقین ہی معاف کرسکتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں غریب پنجابیوں پر نہیں بلکہ ہمیشہ پنجاب کی رولنگ ایلیٹ پر تنقید کرتا رہا ہوں، پنجابیوں نے فوج کے خلاف غزلیں لکھیں ، جنرل ضیاء کے زمانے میں پنجابی سیاستدانوں نے بھارتی ٹینکوں پربیٹھ کر پاکستان آنے کی دھمکیاں دیں، 93 ہزار فوجیوں نے بھارتی جنرل اروڑہ سنگھ کے آگے ہتھیارڈال دیئے لیکن انہیں کبھی غدار نہیں کہا گیا ۔ آج وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار کہتے ہیں کہ جو ریاستی اداروں کے خلاف بات کرے گا اسکے خلاف اقدام کیا جائے گا لیکن فوج نے کئی بار پاکستان کے آئین کواپنے پیروں تلے روند ڈالا مگران کے خلاف چوہدری نثار کے منہ سے کبھی ایک لفظ نہیں کہا گیا۔جناب الطاف حسین نے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام نے اپنے حقوق کیلئے ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں اورمیں ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ فوج، آئی ایس آئی اور قلمکار کشمیرکا مسئلہ صرف خانہ پری کیلئے اٹھارہے ہیں مگردل سے کوئی بھی مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر، پاکستان یا بھارت کا نہیں بلکہ صرف کشمیریوں کا ہے ، کشمیرکے مستقبل کا فیصلہ کرنے کاحق بھی صرف کشمیری عوام کو ہے ، کشمیری عوام کی اکثریت جوفیصلہ کرے گی ہمیں اسے قبول کرنا چاہیے ۔ یہ کشمیری عوام کا حق ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں ، بھارت کے ساتھ الحاق کریںیا اپنا آزادملک بنائیں ،بھارت اورپاکستان کوکشمیری عوام کو فٹ بال نہیں سمجھنا چاہیے اورانہیں سبز باغ نہیں دکھانے چاہئیں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ 1964ء سے لیکرآج 2017ء تک مہاجروں اور ان کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم کو ختم کرنے کیلئے آپریشن میں فوج نے اربوں روپے خرچ کیے اگر یہ رقم کشمیر کی جدوجہد آزادی کیلئے استعمال کی جاتی توآج کشمیرآزاد ہوچکا ہوتا۔ یہ امرافسوسناک ہے کہ کشمیری عوام سے ہمدردی کے دعویدارفوجی جرنیلوں نے حقیقی بنائی ، جن جرائم پیشہ عناصر کو ایم کیوایم کی صفوں سے نکالا گیا تو وہ بیرون ملک بھاگ گئے ، انہیں آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی جنرل رضوان اختر، ڈی جی رینجرز بلال اکبر اورکورکمانڈر کراچی جنرل نوید مختار کے دور میں بیرون ملک سے پاکستان لاکر پی ایس پی ٹولہ تشکیل دیا گیا، ورنہ کمالو گروپ میں کوئی اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ کراچی کے علاقے ڈیفنس یا حیدرآباد اورمیرپورخاص میں قیمتی بنگلے خریدسکیں، جلسہ جلوس کے بھاری اخراجات برداشت کرسکیں۔ اگر فوج اتنا سرمایہ ایم کیوایم کو ختم کرنے کی کوششوں پر خرچ کرنے کے بجائے ایم کیوایم سے ہاتھ ملاتی اوراس کے ہاتھ مضبوط کرتی تو ایم کیوایم ہرمحاذ پر فوج کاساتھ دیتی۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ جواب دے کہ الطاف حسین نے کونسا ملک توڑا ہے ؟ الطاف حسین نے ہمیشہ غریب پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں، پختونوں، سرائیکیوں، کشمیریوں، ہزاروال، گلگتیوں ، بلتستانیوں اوردیگرقومیتوں کے حقوق کی بات کی، انکے مسائل کے حل کیلئے آواز اٹھائی لیکن الطاف حسین کو ہی غدارقراردیا گیا کیونکہ وہ جاگیرداروں اوروڈیروں کی طرح چند ٹکوں کیلئے اپنے ظرف وضمیرکا سودا کرنا گوارا نہیں کرتا۔فوج کے بریگیڈئیرامتیاز احمد آج بھی حیات ہیں جو ٹیلی ویژن پر کہہ چکے ہیں کہ وہ نوٹوں سے بھرے سوٹ کیس لیکر الطاف حسین کے پاس گئے تھے لیکن انہوں نے یہ رقم لینے سے صاف انکار کردیاتھا۔اسی طرح جنرل مرزا اسلم بیگ بھی حیات ہیں ان سے بھی تصدیق کی جاسکتی ہے جبکہ جنرل حمید گل انتقال کرگئے ، اللہ ان کی مغفرت فرمائے انہوں نے فوج میں بہت بگاڑ پیدا کیے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ 12مئی کا بہت چرچا کیا جاتا ہے لیکن سانحہ قصبہ علیگڑھ، سانحہ حیدرآباد اور سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد کا کوئی تذکرہ تک نہیں کرتا کہ کس طرح سینکڑوں مہاجروں کا قتل عام کیا گیا اورآج تک کسی کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ہے اندھیرنہیں ہے ، آج 1400 سال بعد بھی نواسہ رسولؐ حضرت امام حسین ؑ کو عقیدت ومحبت سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ یزید، چنگیزخان اورہلاکوخان پرآج بھی لعنت ملامت کی جاتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے مسلح افواج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں ملک کا دشمن نہیں تھا نہ ملک کا دشمن ہوں،میرا قصور صرف یہ ہے کہ میں سچ بات کہتا ہوں۔ فوج نے میرے 71 سالہ بے گناہ بزرگ دانشور پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف جنہوں نے 40 سال تک بچوں کو زیورعلم سے آراستہ کیا ، انہیں صرف پریس کانفرنس کرنے کے جرم میں گرفتارکرکے جیل میں ڈال دیا، مومن خان مومن کو جیل میں ڈالا، سابق جج ساتھی اسحاق اوران کے اہل خانہ کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے ایم کیوایم کوختم کرنے کیلئے جواسکرپٹ لکھا تھا وہ 14 مئی کو بری طرح ناکام ہوگیا اورملین مارچ کادعویٰ کرنے والے چوراچکوں ، بھتہ خوروں اورچائنا کٹنگ کرنے والے پی ایس پی ٹولے کی اصلیت واضح ہوگئی اورکراچی کے عوام نے انہیں بری طرح مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی تجزیہ نگار، اینکرپرسنز اورصحافی پوچھیں کہ کمالو گروپ کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟ ان کے پاس قیمتی بنگلے اوربلٹ پروف گاڑیاں کہاں سے آئیں؟ انہوں نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق آئی ایس آئی اب تک کمالو گروپ پر 50 ار ب روپے خرچ کرچکی ہے اور25 کروڑروپے گزشتہ روز نام نہاد ملین مارچ کیلئے دیئے گئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مظلوم قومیتوں کے ساتھ نا انصافیوں اورانہیں ظلم کانشانہ بنانے والے پاکستان کی سلامتی کے خلاف عمل کررہے ہیں ۔ انہیں چاہئے کہ وہ ظلم و ناانصافیوں کا سلسلہ بند کردیں ، لاپتہ بلوچوں اورمہاجروں کو باحفاظت بازیاب کرائیں ،اب اسٹیبلشمنٹ کو بلوچوں،پختونوں ،مہاجروں،سندھیوں کو ان کے جائز حقوق دینے ہوں گے اوران سے ڈائیلاگ کے ذریعہ ہرمسئلہ کا حل تلاش کرنا ہوگا ۔ فوج کو ایم کیوایم سے بات کرنی ہوگی ، بات چیت کے ذریعہ مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا ، آپ اپنے متعصبانہ اقدامات سے پاکستان کی سلامتی کو تونقصان پہنچا سکتے ہولیکن الطاف حسین کی جماعت اور اس کے چاہنے والوں کونہیں توڑسکتے۔ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنایا تھااورظلم وجبرسے بانیان پاکستان کی اولادوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ آج دنیا میں کہا جارہا ہے کہ دنیا کے 199 میں سے 198 ممالک کی اپنی فوج ہے جبکہ پاکستان ایسا ملک ہے جس کی فوج کا ملک ہے ، آج امریکہ اوریورپ ڈیورنڈ لائن اورسرجیکل اسٹرائیک کی باتیں کررہے ہیں اورہماری اسٹیبلشمنٹ ایک طرف 71 سالہ بزرگ پروفیسر حسن ظفرعارف کو گرفتارکررہی ہے اور دوسری جانب ہزاروں شہریوں کے قاتل احسان اللہ احسان کو ہیرو بنا کرپیش کررہی ہے ، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے طالبعلم مشال خان کے قتل میں ملوث پی ٹی آئی کے کونسلر کوگرفتارکرنے کے بجائے ملک سے فرار کرا دیا گیا، مشال خان کے والد اورآرمی پبلک اسکول پشاور کے شہداء کے والدین کو دھمکیاں دی جارہی ہیں لیکن بدنیت وزیرداخلہ چوہدری نثار مشال خان اورآفتاب احمد کے قاتلوں کے بارے میں کچھ بتانے کو تیار نہیں ہے ۔جناب الطاف حسین نے پی آئی بی ٹولہ کے ضمیرفروش عناصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فاروق ستار اور اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ وہ لاتعلقی کرنے کے باوجود تحریک اورقوم کی امانت سے چمٹے ہوئے ہیں۔ وہ الطاف حسین سے سودفعہ لاتعلقی اختیارکریں مگرانہیں جوکچھ الطاف حسین کی وجہ سے ملاہے ، بانی وقائد ایم کیوایم سے لاتعلقی کی ہے توانہیں قائد سے منسوب ایک ایک چیز واپس کرنی چاہیے کیونکہ انہوں نے قرآن پر قسمیں کھائی ہیں کہ وہ سب قوم ، تحریک اورالطاف حسین کی امانت ہیں اگرانہوں نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی قسمیں کھائی ہیں تو ان پر قرآن کی مار پڑے گی ۔جناب الطاف حسین نے ہمت وجرات اورثابت قدمی پر کراچی ، حیدرآباد، میرپورخاص اور سندھ کے دیگرشہروں کے عوام کو زبردست خراج تحسین اورسلام تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام شہروں کے عوام الطاف بھائی کے ہیں اورسب الطاف بھائی کے پیارے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے مہاجرنوجوانوں بالخصوص طلبا وطالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگرآپ مجھ سے محبت کرتے ہوتو پھر عہد کروامتحان میں چاہے فیل ہوجاؤ لیکن کبھی نقل نہیں کروگے ، محنت اورلگن سے تعلیم حاصل کروگے ، سماجی برائیوں سے خود کودور رکھوگے ، والدین ، اساتذہ ،بزرگوں اورخواتین کا احترام کروگے ، پان ، سگریٹ اورگٹکے جیسی بری عادتیں ترک کرکے تہذیب وشائستگی اورحسن اخلاق کی قابل تقلید مثالیں قائم کروگے اوراپنی تہذیب اورزبان سیکھوگے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ نیلسن مینڈیلا ایک انقلابی ہیرو ہیں جنہوں نے 27 سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اورحقوق کی جدوجہد میں الطاف حسین نے بھی 26 سال جلا وطنی کی زندگی گزاری ہے اورجلا وطنی کی زندگی جیل کی اسیری سے زیادہ کربناک ہوتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے وکلاء سے اپیل کی کہ وہ انسانیت کی خاطر ایم کیوایم کے اسیرکارکنان کے مقدمات کی پیروی کریں اور مظلوموں کو انصاف دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔