چاہے کتنی ہی ایم کیوایم بنالی جائیں، اصلی اور جاندار ایم کیوایم وہی ہوگی جس کے ساتھ الطاف حسین کا نام لگا ہوگا۔الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ ایم کیوایم کاخالق الطاف حسین ہے لہٰذا چاہے کتنی ہی ایم کیوایم بنالی جائیں، اصلی اور جاندار ایم کیوایم وہی ہوگی جس کے ساتھ الطاف حسین ک انام  لگا ہوگا،باقی ایم کیوایم جعلی اور بے روح ہوں گی۔ انہوں نے یہ بات ’’ اے پی ایم ایس او ‘‘ کے 39ویں یوم تاسیس کے موقع پر لندن میں ایم کیوایم یوکے کے زیراہتمام منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجتماع میں لندن کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ برمنگھم ، مانچسٹر، شیفیلڈ، بریڈفورڈ ،ہونسلواوردیگرعلاقوں سے بڑی تعداد میں ایم کیو ایم کے کارکنوں اورہمدرد نوجوانوں، بزرگوں، خواتین اور بچوں نے شرکت کی ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جس طرح بچہ گھٹنوں کے بل پر چلتے چلتے چلنا سیکھتا ہے اوربڑا ہوتا ہے اسی طرح اے پی ایم ایس او نے بھی 11جون 1978ء کوجامعہ کراچی میں جنم لیا اور برسوں تک چلتے چلتے اس نے 18مارچ 1984ء کو ایم کیوایم کوجنم دیا۔ ایم کیوایم کا کارکن بننے کے لئے اے پی ایم ایس او کارکن بننا لازمی ہے اوراے پی ایم ایس اوکے بغیرایم کیوایم نہیں، ایم کیوایم کاوجود دراصل اے پی ایم ایس او سے ہے ، آج اے پی ایم ایس او 39 سال کی ہوگئی ہے ، 39ویں یوم تاسیس پر میں پاکستان اوردنیا بھرمیں موجود تحریک کے ایک ایک کارکن کومبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جسم اسلئے حرکت کرتا ہے کہ اس میں روح ہوتی ہے اورجسم اسی وقت تک زندہ رہتا ہے جب تک اس میں روح موجود ہو، جب جسم سے روح نکل جاتی ہے توجسم مردہ ہوجاتا ہے ، جس میں روح نہ ہووہ بے جان چیز ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی تحریک کا خالق اورنظریہ دینے والا اس تحریک کی روح ہوا کرتا ہے ، اس روح کے بغیروہ تحریک بے جان جسم کی طرح ہوتی ہے ،تحریک تبھی ہوتی ہے جب اس میں روح ہوگی اورتحریک کی روح وہی ہوتا ہے جو تحریک کا خالق ہوتا ہے، جو تحریک کا نظریہ دیتا ہے، جونظریہ کوتخلیق کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی مانے یا نہ مانے یہ ایک حقیقت ہے کہ میں نے مہاجر قومیت کا نظریہ دیا اورمہاجرحقوق کی تحریک کو قائم کیا،مہاجرتحریک سے قبل پاکستان میں پنجابی، پختون،بلوچ ، سندھی، سرائیکی، ہزاروال اوردیگرقومیتوں کی بات ہوتی تھی، سب کی اپنی اپنی مادری زبان ہے اورمہاجروں کی مادری زبان اردو ہے اردوکے حوالے سے ہی سب مہاجروں کوپہچانتے ہیں لیکن کوئی مہاجروں کوتسلیم کرنے کوتیارنہیں تھا، مہاجروں کو’’ بھیا ‘‘ ، ’’ مکڑ ‘‘ ’’ مٹروا ‘‘ ’’ پناہ گیر ‘‘ کہا جاتا تھا، میں نے مہاجرنظریہ پیش کیا، لفظ مہاجر قرآن مجید میں بھی موجود ہے اورخود سرکاردوعالم ؐ نے بھی ہجرت کی اورمہاجرکہلائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ آج روس کی تاریخ سے کارل مارکس اور لینن، چین کی تاریخ سے ماؤزے تنگ، کیوبا کی تاریخ سے فیدل کاسترو،ویت نام سے ہوچی منہ اور ساؤتھ افریقہ کی تاریخ سے نیلسن مینڈیلا کا نام کوئی نہیں نکال سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ حرکت کا نظریہ نیوٹن نے دیا، بلب کا بانی ایڈیسن اورٹیلیفون کا بانی گراہم بیل تھا ، اب کوئی بھی نئے نئے بلب یا ٹیلیفون بنا لے وہ بلب یا ٹیلیفون کا بنانے والاتوہوسکتاہے لیکن وہ اس کا ایجاد کرنے والانہیں کہلا سکتا ۔ اسی طرح کسی نظریہ کوفالوکرکے چاہے کوئی بھی جماعت بنالی جائے لیکن نظریہ دینے والے کو اس نظریہ سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کاخالق میں ہوں، آج کچھ لوگوں نے مجھ سے لاتعلقی اختیار کرکے الگ ایم کیوایم بنالی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ چاہے کتنی ہی ایم کیوایم بنالی جائیں، اصلی اورجاندار ایم کیوایم وہی ہوگی جس کے ساتھ الطاف حسین کانام ہوگا، باقی ایم کیوایم جعلی، بے جان اور بے روح ہوں گی۔جناب الطاف حسین نے پاکستان اور اوورسیزمیں موجود کارکنوں سے کہا کہ وہ حالات سے ہرگزمایوس نہ ہوں اور ہمت و حوصلے کے ساتھ تحریکی جدوجہد جاری رکھیں اوریہ یاد رکھیں کہ جن کا یقین پختہ ، حوصلے جوان، ارادے مضبوط اورنیتیں نیک ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی سے ایک دن ضرور ہمکنار کرتا ہے ۔ انشاء اللہ ہمارے شہیدوں کی قربانیاں ضروررنگ لائیں گی اورہماری تحریک اپنے مشن ومقصد میں ضرور کامیاب ہوگی۔