ڈی جی رینجرزسندھ جنرل محمد سعید کا مہاجروں سے یہ سوال کرنا کہ وہ اپنی پہچان پاکستان سے وابستہ کرنے کیلئے تیارہیں یا نہیں، دراصل پاکستان بنانے والے مہاجروں کی کھلی توہین ہے ۔ الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ ڈی جی رینجرزسندھ میجرجنرل محمد سعید کا مہاجروں سے یہ سوال کرنا کہ وہ اپنی پہچان پاکستان سے وابستہ کرنے کے لئے تیارہیں یا نہیں، دراصل پاکستان بنانے والے مہاجروں کی کھلی توہین ہے ۔ جناب الطاف حسین نے یہ بات گزشتہ روز اپنے آڈیو پیغام میں کہی۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ڈی جی رینجرز کا مہاجروں کے حقوق کی جدوجہد کو جنگ قراردینا بھی حقائق کومسخ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مہاجروں کے حقوق کی جدوجہد کو بدامنی اورجنگ سے تعبیرکرکے ڈی جی رینجرزمہاجروں پر جنگ کرنے کا بہتان لگارہے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ مہاجروں نے کب کس پر حملہ کیا؟ الٹا مہاجربستیوں پر حملے کئے گئے ،14دسمبر1986ء کو علی گڑھ اورقصبہ کالونی کی بستی پر حملہ ہوا اور سینکڑوں مہاجروں کا قتل عام ہوا، اسی طرح جلال آباد ناظم آباد ،خواجہ اجمیرنگری، سرجانی ٹاؤن ، ماڈل کالونی ،گرین ٹاؤن پر حملہ ہوا۔30ستمبر1988ء کو حیدرآباد کے مختلف علاقوں پر حملہ ہوا اور آدھے گھنٹے تک میں مہاجروں کا قتل عام کیا گیا، 26/ 27 مئی 1990ء کو سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مہاجربستیوں پر یہ حملے کراچی میں فوج کی موجودگی میں ہوئے کیونکہ جب مہاجروں کایہ قتل عام ہوا اس وقت کراچی میں ہر علاقے میں فوج کی چوکیاں موجود تھیں پھراس بدامنی اورمہاجر بستیوں پر حملوں کاذمہ دار ایم کیوایم کوکیسے قراردیاجاسکتا ہے؟جناب الطاف حسین نے کہا کہ رینجرز 1989ء سے کراچی میں تعینات ،40 سال سے فوج رینجرزکراچی میں تعینات ہے مگر وہ شہرمیں امن قائم کرنے میں ناکام رہی ۔ فوج اوراس کے اداروں کی جانب سے عوامی مینڈیٹ کی توہین اورتذلیل کی گئی،مہاجروں کے خلاف پی پی آئی یعنی پنجابی پختون اتحاد کی سرپرستی کی گئی اوران سے مہاجربستیوں پر حملے کرائے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہرمہاجردشمن دراصل مہاجروں کے حقوق کی جدوجہد کو بدامنی اورتشدد سے تعبیرکرکے ان کی جدوجہد کی توہین کرتا ہے۔ڈی جی رینجرز نے بھی مہاجروں کی جدوجہد کو جنگ سے تعبیرکرکے ان کی توہین کی ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ ڈی جی رینجرزکراچی کے لوگوں کویہ سبق دے رہے ہیں کہ وہ اپنی پہچان سب سے پہلے پاکستان اور اسلام سے وابستہ کریں جبکہ کراچی کے لوگوں نے ہی اسلام اورپاکستان سے وابستگی کواپنی پہچان بنایا تھا اور اسی نام پر اپناسب کچھ قربان کیا اور ہرطرح کی قربانی دی ۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی رینجرز آج مہاجروں پر یہ بہتان لگارہے ہیں کہ انہوں نے لسانیت کا آغازکیا حقیقت یہ ہے کہ مہاجر ہی وہ تھے جو اپنے آپ کو پاکستانی کہتے تھے جبکہ یہاں آباد دیگر قومیتیں خود کومسلمان یا پاکستانی کہلوانے کے بجائے اپنے آپ کو پنجابی، پختون ،بلوچ،سندھی ،سرائیکی ،کشمیری کہلاتے تھے اوراس لسانی شناخت سے فخرمحسوس کرتے تھے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل آصف نوازجنجوعہ نے کہا تھا’’ مجھے پنجابی ہونے پر فخرہے، میں پہلے پنجابی اورپھر پاکستانی ہوں ‘‘۔ اسی طرح موجودہ آرمی چیف جنرل قمرباجوہ نے کہا کہ ’’ میرا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے اورمیں بلوچی کہلانے پر فخرکرتاہوں ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی رینجرزمہاجروں کوسبق دینے سے پہلے آرمی چیف اورفوج کے افسران کویہ بات سمجھائیں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ مہاجروں کے ساتھ قیام پاکستان کے بعد سے ہی زندگی کے ہرشعبہ میں ناانصافیاں کی گئیں،دارالحکومت کی کراچی سے پنجاب منتقلی ،سول سروسزسے مہاجروں کی جبری بے دخلی ، محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دینے کی پاداش میں 1964ء میں کراچی میں مہاجربستیوں پر حملے،لسانی فسادات ، کوٹہ سسٹم کا نفاذ،اندرون سندھ مہاجروں کی بستیوں پرحملے ، مہاجروں کا قتل عام ،مہاجروں کے مکانوں، دکانوں، باغات کی تباہی اوراندرون سندھ سے مہاجروں کی نقل مکانی مہاجروں کے ساتھ ہونے والے مظالم کی چند مثالیں ہیں اوریہ سب کچھ قیام پاکستان کے بعد سے 70ء کی دہائی تک ہوتارہا۔ اس وقت ایم کیوایم موجود نہیں تھی ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ ڈی جی رینجرز کہتے ہیں کہ کراچی کے شہریوں کو یہ کہنا چاہیے کہ ’’ میں پاکستانی ہوں، میں مسلمان ہوں،میں Karachi – ite ہوں ‘‘ ۔شائد ڈی جی رینجرزبھول گئے کہ کراچی میں صرف مسلمان ہی نہیں رہتے ،کراچی میں ہندو بھی رہتے ہیں ،سکھ بھی رہتے ہیں ، عیسائی بھی رہتے ہیں، یہودی بھی رہتے ہیں،پارسی بھی رہتے ہیں اور دیگر غیرمسلم بھی رہتے ہیں ۔پھرڈی جی رینجرزکس طرح کہہ رہے ہیں کہ کراچی کے تمام لوگ خود کو مسلمان کہیں؟ ڈی جی رینجرز تمام کراچی والوں کو زبردستی خود کو مسلمان کہلوانے پر مجبورنہیں کرسکتے ، یہ تمام غیرمسلموں پر جبرکرنے کی بات ہے جبکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’ دین میں جبر نہیں ہے ‘‘ ۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے ’’ لکم دینکم ولی الدین ‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ ڈی جی رینجرزکی یہ بات تمام اقلیتوں کی نفی ہے ،پاکستان کے جھنڈے میں سفید حصہ ملک میں آباد اقلیتوں کی نشاندہی کرتاہے اورڈی جی رینجرزخود اس جھنڈے کی نفی کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اسی قسم کے خیالات کا اظہار چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے بھی کیا تھا۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ فوج اوراسٹیبلشمنٹ کی جانب سے لیاری گینگ وار کی سرپرستی کی گئی ، انہیں مہاجروں کے قتل عام کیلئے اسلحہ اورہرطرح کی سرپرستی فراہم کی گئی اوران کے ذریعے مہاجروں کا قتل عام کرایا گیا۔ فوج کی موجودگی میں کراچی میں جہادی مدرسے قائم کئے گئے ،آج کراچی میں کئی ہزارغیرقانونی جہادی مدرسے قائم ہیں ، آج تک رینجرزنے ان غیرقانونی مدرسوں کے خلاف کارروائی نہیں کی بلکہ ان کی سرپرستی کی جبکہ دوسری جانب ایم کیوایم کے سینکڑوں دفاتر مسمار کردیئے گئے ،باقی تمام دفاترسیل کردیئے گئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کراچی میں رینجرز کی وجہ سے امن قائم ہوگیا ہے جبکہ کراچی کا ہرشہری بخوبی جانتا ہے کہ کراچی میں جس قدر بدامنی ،دہشت گردی، چوری ،ڈکیتی ، اغوا برائے تاوان اوردیگرجرائم آج ہیں اس سے پہلے کبھی نہیں تھے ، آج کراچی میں امن وسکون نہیں بلکہ خوف و دہشت کا ماحول ہے ،بے سکونی ہے ،بے چینی اور عدم تحفظ ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ رینجرز کراچی میں قیام امن کیلئے آپریشن کررہی ہے ۔دراصل رینجرز کراچی میں امن قائم نہیں کررہی ہے بلکہ اپنا قبضہ جمارہی ہے ۔ آج کراچی کی آدھے سے زیادہ سرکاری و نجی عمارتوں ، یونیورسٹیوں،کالجوں،ہاسٹلوں،اسکولوں، کھیل وتفریح کے مراکز پر رینجرز کا قبضہ ہے جن میں کراچی یونیورسٹی ، ڈی جے کالج کے مٹھارام ہاسٹل ، جناح کورٹ اور ریڈیو پاکستان سرفہرست ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ رینجرز کراچی میں قیام امن کی بنیادی ذمہ داری انجام دینے کے بجائے کاروبارکررہی ہے ، ہاؤسنگ اسکیمیں ، واٹرہائیڈرینٹ ،پیٹرول پمپس ،شادی لان اور دیگر کاروباری مراکز چلارہی ہے ، چائنا کٹنگ کررہی ہے، ریتی بجری اورعمارتی سامان بنانے اوردیگر کاروبارکررہی ہے ۔پولیس کی طرح کراچی میں تعینات رینجرزکے افسران بھی کروڑ پتی بن چکے ہیں۔جرنیل ارب پتی، کھرب پتی ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ یہ عجب مذاق ہے کہ جن کے آباؤاجداد نے برصغیرکی آزادی کی جدوجہد کے دوران حریت پسندوں کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دیا، حریت پسندوں کی مخبری اوراس کے صلے میں جاگیریں حاصل کیں، جوانگریزوں کے گھوڑے اورکتے نہلاتے تھے وہ آج پاکستان بنانے والے مہاجروں کو پاکستان اور اسلام کا سبق دے رہے ہیں اوراپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے پر مہاجروں کو ریاستی طاقت کے ذریعے کچلنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ریاستی آپریشن کے دوران میرے 20ہزار کارکنوں اورمہاجروں کوشہید کردیا گیا، اب بھی سینکڑوں لاپتہ اورہزاروں جیلوں میں قیدہیں، آج بھی میرے کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جارہا ہے لیکن آج تک ہم نے فوج یارینجرز پر کوئی حملہ نہیں کیا، کسی فوجی یا رینجرز کے افسر یا اہلکار کو قتل نہیں کیا پھر ڈی جی رینجرزکس جنگ کا بہتان ہم پرلگارہے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہم کسی سے جنگ نہیں چاہتے ، ہم تمام تنازعات کا با معنی مذاکرات اوربات چیت کے ذریعے حل چاہتے ہیں ، ڈی جی رینجرز، فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو ایم کیوایم کی حقیقت اورمہاجروں کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا اور مہاجروں اوران کی نمائندہ جماعت کوصفحہ ہستی سے مٹانے کی سوچ اورروش ترک کرنی ہوگی ۔