کراچی کی آبادی تین کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے ،اراکین رابطہ کمیٹی

متحدہ قومی موومنٹ(پاکستان ) کی رابطہ کمیٹی نے متنبہ کیاہے کہ کراچی کی آبادی تین کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے ، اگر مردم شماری کے عمل میں دھاندلی کے ذریعہ کراچی سمیت سندھ کی شہری آبادی کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی تو مہاجرعوام ایسے متعصبانہ اورغیر منصفانہ فیصلے کو کسی بھی قیمت پرقبول نہیں کریں گے اوراپنے جائز حق کیلئے ہرفورم پر آواز احتجاج بلند کریں گے ۔ یہ بات رابطہ کمیٹی کے ارکان مصطفی عزیزآبادی، واسع جلیل اور ڈاکٹرندیم احسان نے ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پر ایم کیوایم شعبہ خواتین کی انچارج محترمہ صفیہ اکبر اور ایم کیوایم برطانیہ کے آرگنائز محمد ہاشم اعظم بھی موجود تھے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی عزیزآبادی نے کہا کہ مردم شماری اہم قومی معاملہ ہے اورمردم شماری کے نتیجے میں ہی آبادی کے تناسب سے منتخب ایوانوں میں عوامی نمائندگی ، شہروں وصوبوں کے مالی وسائل کی تقسیم اورسرکاری اداروں میں ملازمتوں کا تعین کیا جاتا ہے ۔آئین پاکستان کے مطابق ملک میں ہردس سال بعد مردم شماری کی جانی چاہیے لیکن پاکستان میں مردم شماری کوحیلے بہانوں سے التواء میں ڈالا جاتا رہا ہے ۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے دلی تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی طرح مردم شماری کرانے کا حکم دیا اور ملک میں ہونے والی مردم شماری کا سہرا سپریم کورٹ کے سر جاتا ہے ۔ مصطفی عزیزآبادی نے کہا کہ پاکستان کے مظلوم عوام بالخصوص سندھ کے شہری عوام کے ساتھ مردم شماری میں دھاندلیاں اورناانصافیاں تاریخ کا حصہ ہیں ، 1972ء میں ہی سندھ کے شہری عوام کے ساتھ دھاندلی کی بنیاد رکھ دی گئی تھی ، پیپلزپارٹی کے دورحکومت میں کرائی گئی مردم شماری میں سندھ کے شہری عوام کی آبادی نصف کم ظاہر کی گئی ، اس وقت ذوالفقارعلی بھٹو ملک کے وزیراعظم تھے، وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے سیکریٹری داخلہ محمد خان جونیجو کو حکم دیکر صرف کراچی کی آبادی 60 لاکھ کے بجائے 30لاکھ ظاہر کی گئی اور محمد خان جونیجو نے عدالت میں یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے وفاقی حکومت کے حکم پر کراچی کی آبادی کم ظاہرکی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک مرتبہ پھر پیپلزپارٹی مہاجردشمنی کا مظاہرہ کررہی ہے ، 2011ء میں مردم شماری کے موقع پر پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور جب خانہ شماری کے نتیجے میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ شہری سندھ کی آبادی 61 فیصد تک بڑھ گئی ہے تو پیپلزپارٹی کے متعصب رہنماؤں نے اس نوٹیفیکیشن کو ہی منسوخ کردیا تھا، ایک مرتبہ پھر پیپلزپارٹی سندھ کے شہروں میں مہاجروں کی آبادی کم ظاہر کرنے کی سازش میں مصروف ہے ، صوبائی مشیر اطلاعات مولابخش چانڈیو کی جانب سے مہاجروں کو سندھی بننے کا مشورہ دیا جارہا ہے اور مہاجروں سے کہا جارہا ہے کہ وہ مردم شماری کے فارم میں موجود قومیت کے خانہ میں خود کوسندھی لکھیں لیکن جب سندھ میں وزیراعلیٰ سندھ کے انتخاب کا مرحلہ آتا ہے تو کسی مہاجرکو محض اس لئے وزیراعلیٰ نہیں بنایا جاتا کہ وہ سندھی نہیں ہے ۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی منافقت سے شہری سندھ کا بچہ بچہ واقف ہوچکا ہے ۔مصطفی عزیزآبادی نے مطالبہ کیا کہ مردم شماری کو منصفانہ اورشفاف بنانے کیلئے اقوام متحدہ کے مبصرین کی نگرانی میں مردم شماری کرائی جائے ، اگرماضی کی طرح اس مرتبہ بھی شہری سندھ کی آبادی کم دکھائی گئی تو مہاجرعوام ایسی کسی بھی دھاندلی کو ہرگز قبول نہیں کریں گے ۔ انہوں نے سندھ کے شہروں میں بسنے والی کچھی ، میمن ، گجراتی ، کاٹھیاواڑی ، مارواڑی ، پارسی اوردیگربرادریوں سے اپیل کی کہ وہ سب مہاجر ہیں لہٰذا مردم شماری کے فارم میں وہ مادری زبان کے خانہ میں خود ’’اردو‘‘ لکھیں ۔ انہوں نے قائد تحریک جناب الطاف حسین کی جانب سے سندھ کے شہری عوام سے پرزوراپیل کی کہ وہ مردم شماری کے عمل میں بھرپورکردار ادا کریں ، مردم شماری کا فارم بال پوائنٹ سے بھریں ، پنسل کا ہرگز استعمال نہ کریں اور فارم بھرنے میں ناخواندہ افراد کی مدد کریں اورفارم بھر کر اس کی تصویر ضرورلیں تاکہ دھاندلی کی صورت میں اسے ثبوت کے طورپر پیش کیا جاسکے ۔ڈاکٹرندیم احسان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کا رکن ملک اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے بعض چارٹر پر دستخط بھی کیے ہیں ، یہ صدی اربانائزیشن کی صدی ہے ، 2016ء کے اقوام متحدہ کے اعدادوشمارکے مطابق دنیا کی آبادی کا 54.5 فیصد شہری آبادی جبکہ باقی دیہی آبادی پر مشتمل ہے اور2030ء میں دنیا کی شہری آبادی 60 فیصد ہوگی۔ پاکستان بیوروآف اسٹیٹکس(محکمہ شماریات) کے مطابق 1998ء کی مردم شماری کے حوالہ سے شہری آبادی 48.8 فیصد جبکہ دیہی آبادی 51.2 فیصد دکھائی گئی ہے لیکن صوبہ سندھ میں شہری آبادی کیلئے 40 فیصد اوردیہی آبادی کیلئے 60 فیصد کوٹہ سسٹم نافذ ہے، سندھ کے شہری عوام کے ساتھ اعداد و شمار کا گورکھ دھندا جاری ہے اور1972ء کی مردم شماری کے اعداد و شمار آج تک قائم ہیں جوکہ نہ صرف ناممکن ہے بلکہ دنیا کاکوئی بھی ادارہ ان اعداد و شمار کو تسلیم نہیں کرتا۔ دنیا کا ہرادارہ کراچی کوپاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا شہرقراردیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں سب سے زیادہ قدرتی وغیرقدرتی اضافہ کراچی میں دیکھنے میں آیا ہے ، اگرشفاف اورمنصفانہ طریقہ سے مردم شماری کرائی جائے تو صرف کراچی کی آبادی تین کروڑ سے تجاوز ہوگی اوراگرریاستی طاقت کے ذریعہ کراچی سمیت شہری سندھ کی آبادی کم دکھائی گئی تو باشعور مہاجرعوام اس دھاندلی کو کبھی قبول نہیں کریں گے ۔ رابطہ کمیٹی کے رکن واسع جلیل نے مردم شماری کسی بھی جمہوری معاشرے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی اورآبادی کے تناسب سے ہی وسائل کی تقسیم کی جاتی ہے اگر دھاندلی کی بنیاد پر بنائے گئے اعدادوشمار کی بنیادپر این ایف سی ایوارڈ میں منصفانہ فنڈز تقسیم کیے جائیں گے تو مسائل کا جنم لینا فطری ہوگا۔ کراچی کو منی پاکستان قراردیا جاتاہے ، اس شہر میں پورے ملک سے لوگ آتے ہیں لیکن کراچی کے شہریوں کو ان کا جائز حق نہیں دیاجاتا۔ اس ناانصافی کا خاتمہ ہونا چاہئے اورپاکستان میں ایک قوم کا تصور مضبوط بنانا چاہیے بصورت دیگر اس سے پاکستان میں سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے آرڈی ننس 1959ء کی شق 10 کے تحت کوئی بھی سویلین مردم شماری کے ریکارڈ کا معائنہ نہیں کرسکتا نہ مردم شماری کے ریکارڈ کو دیکھ سکتا ہے ، یہ شق ہی مردم شماری میں دھاندلی کا سب سے بڑا سبب ہے ، منتخب ارکان قومی اسمبلی کو اس کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے ۔ واسع جلیل نے کہا کہ اگر شفاف اورمنصفانہ مردم شماری کرائی جائے تو کراچی کی حقیقی آبادی کے لحاظ سے شہر میں قومی اسمبلی کی نشستیں 46 سے زائد ہوسکتی ہیں ۔